Mushahid Razvi
 اس شان سے وہ بزم میں شب جلوہ گر ہوا

 
اس شان سے وہ بزم میں شب جلوہ گر ہوا
پروانۂ جمال چراغِ قمر ہوا

تم چھپ گئے تو رازِ محبت نہ چھپ سکا
پردہ تمہارا عاشقوں کا پردہ دَر ہوا

دل اپنی راہ ہوش و خرد اپنی راہ تھے
وہ جلوۂ جمال جو پیش نظر ہوا

وہ نالہ سن کے ہنسنے لگے بزمِ غیر میں
مجھ کو یہ انتظار کہ کتنا اَثر ہوا

کیا خاک اُن کی بزم میں جانے کا لطف ہو
جب وہ کہیں کہ آپ کا آنا کدھر ہوا

توڑے گا شوقِ دید پر اے دل قیامتیں
وہ آفتابِ حشر اگر جلوہ گر ہوا

مرغانِ قدس صدقے ہوئے صورتِ تَدرُو
ہنگامہ گرم کن جو وہ رشکِ قمر ہوا

ایسا گما کہ پھر نہ پتا آج تک چلا
عاشق کا دل بھی ہائے کسی کی کمر ہوا

تیرِ نگاہ تھا سببِ اِزدیادِ عشق
تیری طرف سے اور مرے دل میں گھر ہوا

افسوس صدمے سہ کے دلِ سخت جاں میرا
پتھر ہوا مگر نہ ترا سنگِ دَر ہوا

وہ محو نغمہ صبح شب وصل اور یہاں
فریاد صورِ نالۂ مرغِ سحر ہوا

وہ ڈر کر اور غیر سے مل بیٹھے بزم میں
اچھا ہمارے نالۂ دل کا اَثر ہوا

آزارِ عاشقی متعدی ہے اے حسنؔ
روتا ہوں اُس کو میں جو مرا چارہ گر ہوا
Mushahid Razvi

عدو نے حالِ محبت جو آ شکار کیا

 
عدو نے حالِ محبت جو آ شکار کیا
تمہیں خدا کی قسم تم نے اعتبار کیا

تمہارے وعدے کا اتنا تو اعتبار کیا
کہ بعد مرگ بھی مرقد میں انتظار کیا

مصیبت ایسی اٹھائی کہ صبح یاد نہیں
یہ کس کی یاد نے شب مجھ کو بے قرار کیا

تمہیں تو شرم سے منہ کھولنا بھی مشکل ہے
عدو کو رات مگر میں نے ہمکنار کیا

ستمگروں کے ستم کی ترقیاں دیکھو
کہ مجھ کو خاک کیا خاک کو غبار کیا

خبر سنی جو میری نزع کی تو آتے ہیں
دمِِ اخیر بھی مجھ کو اُمیدوار کیا

کیا کمال بڑا تیر آپ نے مارا
کسی غریب کے دل کو اگر شکار کیا

مرے ہی نقشِ قدم ہیں یہ کوئے دشمن میں
قسم نہ کھائیے بس میں نے اعتبار کیا

عدو بھی چین سے ہے وہ بھی چین سے اے آہ
مجھی کو تو نے بھی ہر پھرکے بے قرار کیا

میں چاہتا نہیں بدنامِ عشق ہو کے جیوں
کہ اُس نے راز محبت کا آ شکار کیا

میں کیوں سناؤں جو گزری گزر گئی دل پر
میں کیوں بتاؤں کیا جس نے بے قرار کیا

خطا معاف کرو مجھ کو پیار کر لو تم
خطا ہوئی جو مرے دل نے تم کو پیار کیا

مزا جبھی ہے مرے بدگماں محبت کا
کہ میں نے بات کہی تو نے اعتبار کیا

بہت دنوں سے یہ ہیں مہربانیاں مجھ پر
اُمیدوار کیا اور بے قرار کیا

عدو ہو دل ہو کوئی ہو تمہاری جان سے دُور
وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا

سکونِ دل کا سبب ہو گئی تھی مایوسی
یہ کیا کیا کہ مجھے پھر اُمیدوار کیا

فراقِ ساقیِ مے کش میں اے حسنؔ ہم نے
شراب کا ہے کو پی زہر زہر مار کیا

Mushahid Razvi

عیادت کیوں کریں وہ مدعا کیا


 عیادت کیوں کریں وہ مدعا کیا
کہ دردِ بے کسی کا پوچھنا کیا


ہجوم صدمۂ فرقت تو دیکھو
کرے اب صبر طاقت آزما کیا


نہ سُوجھا دل لگاتے وقت کچھ بھی
پر اب کہتا ہوں یہ میں نے کیا کیا


یہ مانا دُکھ ہمارا لا دوا ہے
جو وہ پوچھیں تو اے دل پوچھنا کیا


چسک رہ رہ کر اُٹھتی ہے یہ کیسی
الٰہی میرے دل کو ہو گیا کیا


میری بالیں سے یہ کہتے اٹھے وہ
مریضانِ محبت کی دوا کیا


کوئی دُکھ دینے والوں سے یہ پوچھے
کہ تم کو اس میں آتا ہے مزا کیا


یہی حسرت سے تم کو دیکھے جانا
سوا اِس کے ہمارا مدعا کیا


رہے مرنے ہی والے چین سے کچھ
جو دُکھ بھرتے ہیں اُن کا پوچھنا کیا


ترس آتا نہیں مطلق کسی کو
گزرتی ہے کسی پر ہائے کیا کیا


ستاؤ دل دُکھاؤ مار ڈالو
نہ آئے گا کبھی روزِ جزا کیا


کٹے گی بے کسی کی رات کیوں کر
جو دل ہی لے چلے تم پھر رہا کیا


حسنؔ کیوں کر دیا ٹکڑے گریباں
یہ بیٹھے بیٹھے جی میں آ گیا کیا


Mushahid Razvi


کرے ایسے سے کوئی التجا کیا


کرے ایسے سے کوئی التجا کیا
کہے جو سُن کے مطلب مدعا کیا
کوئی افسوں پڑھا یا گالیاں دیں
مجھے یہ چپکے چپکے کہہ لیا کیا
میرے گھر پوچھتا آیا انہیں غیر
مجھے حیرت کہ ہے یہ ماجرا کیا
ہمارے ہاتھ سے بھی کوئی ساغر
جو کھل کھیلے تو پھر شرم و حیا کیا
درِ دُشمن پہ لے جاتا ہے ہر روز
ستم کرتا ہے تیرا نقشِ پا کیا
اگر وہ میرے جانے سے نہ آئے
تو پھر اے شوقِ دل تیری سزا کیا
میں حاضر ہوں جو کرتے ہو مجھے قتل
مگر کس بات پر مَیں نے کیا کیا
میرے سینے کو دیکھو دل کو دیکھو
نہیں ناوک نگاہِ عشوہ زا کیا
گماں ہے آپ کا وہ کون میں کون
حسنؔ مجھ سے کسی سے واسطہ کیا
Mushahid Razvi

میں کیا پوچھوں کہ ہے میری خطا کیا
 

میں کیا پوچھوں کہ ہے میری خطا کیا
عتاب بے سبب کا پوچھنا کیا
 
نہیں احوالِ دل تعریف دشمن
سنیں وہ کان دھر کر ماجرا کیا
 
چڑھاؤ آستیں خنجر نکالو
یہ چپکے چپکے مجھ کو کوسنا کیا
 
یہ پہلے سینے سے لب تک تو آ لے
ہوا باندھے گی آہِ نا رَسا کیا
 
رہے گی بے اَثر ہی حسرتِ دید
نہ ہو گا حشر میں بھی سامنا کیا
 
بھرے ہیں دشمنوں نے کان اُن کے
سنیں ٹوٹے ہوئے دل کی صدا کیا
 
فدا کرتے ہیں وہ اَغیار پر روز
میری تصویر کا خاکہ اُڑا کیا
 
ہماری سخت جانی کو بھی دیکھو
لگاؤ ہاتھ کوئی سوچنا کیا
 
اُنھیں جب جان سمجھیں اہلِ اُلفت
پھر اُن کی بے وفائی کا گلہ کیا
 
ہوئے ہم اِبتداے عشق ہی کے
خدا ہی جانے ہو گی اِنتہا کیا
 
حسنؔ اب کیوں ہے جامِ مے سے انکار
کہو تو زہر اِس میں گُھل گیا کیا

Mushahid Razvi


علامہ حسن رضابریلوی کی نعتیہ شاعری



نعت اردو کی دیگر اصنافِ سخن کے مقابلے میں سب سے زیادہ طاقت ور،معظّم،محترم اور محبوب وپاکیزہ صنف ہے۔اس کا آغاز یومِ میثاق ہی سے ہوچکا تھا۔قادرِ مطلق جل شانہٗ نے قرآنِ عظیم میں جابجا اپنے محبوبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و کمالات کو بیان فرماکر نعت گوئی کا سلیقہ و شعور بخشاہے۔صحابۂ کرام ، ازواجِ مطہرات،اہلِ بیتِ اطہار،تابعین،تبع تابعین،ائمۂ مجتہدین،سلف صالحین،اغواث،اقطاب،ابدال،اولیا،صوفیہ،علمااور بلاتفریق مذہب و ملّت شعراوادباکاایک لامتناہی سلسلہ ہے جنہوں نے اس پاکیزہ صنف کا استعمال کرتے ہوئے بارگاہِ محبوبِ کردگار صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی عقیدت و محبت کے گل و لالہ بکھیرے ہیں۔
ہندوستان میں نعتیہ شاعری کے باضابطہ طور پر آغاز کے آثار سلطان شمس الدین التمش کے زمانے میں ملتے ہیں۔طوطیِ ہندحضرت امیر خسروؔ کو ہندوستان میں نعتیہ شاعری کے میدان کا مستند شاعر کہاجاتاہے۔امیر خسروؔ فارسی زبان وادب کے ماہر تھے۔آپ کا کلامِ بلاغت نظام بھی فارسی ہی میں موجود ہے۔بعد ازاں جب اردو زبان کا وجود ہوا تب ہی سے اردو میں نعتیہ شاعری کا بھی آغاز ہوا۔خواجہ بندہ نواز گیسو دراز،فخرِ دین نظامی،غلام امامؔ شہید،لطف علی لطفؔ بدایونی،کفایت علی کافیؔ ،کرامت علی شہیدیؔ ،احمد نوریؔ مارہروی،امیر مینائی،بیدمؔ شاہ وارثی،نیازؔ بریلوی،آسیؔ غازی پوری،محسن کاکوروی اور امام احمد رضا بریلوی سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ استاذِ زمن علامہ حسن رضا خاں حسنؔ بریلوی تک پہنچا اوراردو نعت گوئی کا یہ نا ختم ہونے والامقدس سفر ہنوز جاری و ساری ہے۔
امام احمد رضا بریلوی بلا شبہہ بیسویں صدی کے سب سے عظیم نعت گو شاعر گزرے ہیں آپ حسّان الہند ہیں۔نعتیہ شاعری کے سرتاج اور اس فن کی عزت و آبرو کے ساتھ ساتھ سخنورانِ عجم کے امام بھی ۔۔۔اسی طرح آپ کے برادرِ اصغر علامہ حسن رضا بریلوی کے دیوان کے مطالعہ کے بعد انھیں بھی بلا تردد اردو کا ممتاز نعت گو شاعر قرار دیا جا سکتا ہے ۔آپ کے نعتیہ دیوان’’ذوقِ نعت‘‘میں جہاں کلا سیکیت کے عناصر اور تغزّل کے رنگ کی بھر پور آمیزش ہے وہیں پیکر تراشی، استعاری سازی،تشبیہات، اقتباسات،فصاحت وبلاغت،حُسنِ تعلیل و حُسنِ تشبیب،حُسنِ طلب و حُسنِ تضاد ،لف و نشر مرتب و لف ونشر غیر مرتب ،تجانیس،تلمیحات،تلمیعات،اشتقاق،مراعاۃ النظیروغیرہ صنعتوں کی جلوہ گری بھی۔۔۔اس دیوان میں نعت کے ضروری لواز م کے استعمال سے مدحِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی کامیاب ترین کوششیں ہیں۔علامہ حسن رضا بریلوی کی بعض نعتوں کو اردو ادب کا اعلیٰ شاہ کار قرار دیا جاسکتا ہے۔آپ کا پورا کلام خود آگہی،کائنات آگہی اور خدا آگہی کے آفاقی تصور سے ہم کنار ہے۔مگر کیا کہا جائے اردو ادب کے اُن مؤرخین و ناقدین اور شعرا کے تذکرہ نگاروں کو جنھوں نے گروہی عصبیت اور جانبداریت کے تنگ حصار میں مقید و محبوس ہوکر اردو کے اس عظیم شاعر کے ذکرِ خیر سے اپنی کتابوں کو یکسر خالی رکھا نیز یہ شاعر جس قادر الکلام شاعر کی بارگاہ میں اپنے نعتیہ کلام کو زیورِ اصلاح سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے لیے پیش کرتا تھا اُس (یعنی امام احمد رضا بریلوی) کا بھی ذکرِ خیر اپنی کتابوں میں نہ کرکے اردو ادب کے ساتھ بڑی بد دیانتی اور سنگین ادبی جُرم کا ارتکاب کیا ہے۔وہ تو بھلا ہو لالہ سری رام کا جنھوں نے ’’خمخانۂ جاوید‘‘ جلد دوم کے صفحہ
۴۵۰ پر علامہ حسن رضا بریلوی کا تذکرہ کرکے اپنے آپ کو متعصب مؤرخینِ اردو ادب سے جدا کر لیا ہے۔موصو ف لکھتے ہیں۔
’’سخنورِ خوش بیاں،ناظمِ شیریں زباں مولانا حاجی محمد حسن رضا خاں صاحب حسن ؔ بریلوی خلف مولانا مولوی نقی علی خاں صاحب مرحوم و برادر مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب عالمِ اہلِ سنت و شاگردِ رشید حضرت نواب فصیح الملک بہادر داغؔ دہلوی۔۔۔۔۔۔نعت گوئی میں اپنے برادرِ بزرگ مولوی احمد رضا خاں سے مستفیض ہیں اور عاشقانہ رنگ میں بلبلِ ہندوستان داغؔ سے تلمذ تھا‘‘۔
یہاں یہ امر باعثِ حیرت و استعجاب ہے کہ ’’خمخانۂ جاوید‘‘ جیسے ضخیم تذکرے میں امام احمد رضابریلوی کا ذکر محض اس مقام کے علاوہ کہیں اور نہیں ہے جبکہ آپ کا ذکر بحیثیتِ شاعر الگ سے ہونا چاہیے تھا ،یہاں پر آپ کا تذکرہ صر ف علامہ حسن رضا بریلوی کے بڑے بھائی کی حیثیت سے ہے اس موقع پر ماہرِ غالبیات کالیداس گپتا رضاؔ کی اس تحریر کو نقل کرنا غیر مناسب نہ ہوگا،گپتا صاحب رقم طراز ہیں۔
’’تاہم حیرت ہے کہ اس ضخیم تذکرے میں اِن (حسنؔ رضا بریلوی) کے بڑے بھائی ’’عالمِ اہلِ سنت اور نعت گوئی میں اُن کے استاذ جناب احمد رضا خاں کے ذکر نے جگہ نہ پائی۔‘‘(ماہنامہ قاری،دہلی ، امام احمد رضا نمبر ،اپریل
۱۹۸۹ ء ،مضمون: امام احمد رضا بحیثیتِ شاعر،از: کالیداس گپتا رضا ،ص ۴۵۶)۔
استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی کاکلامِ بلاغت نظام معنی آفرینی کے لحاظ سے جس قدر بلند و بالا ہے اس پر اس قدر کوئی قابلِ ذکر کام نہیں ہوا ہے۔غالباً آپ کی شاعری پر پہلا مقالہ رئیس المتغزلین سید فضل الحسن قادری رضوی رزّاقی مولانا حسرتؔ موہانی علیہ الرحمۃ (م)کا تحریر کردہ ہے جو کہ ’’اردوئے معلی‘‘علی گڑھ کے شمارہ جون
۱۹۱۲ء میں اشاعت پذیر ہواتھا۔(سیرتِ اعلیٰ حضرت،از : فرزندِ استاذ زمن علامہ حسنین رضا خاں بریلوی،مطبوعہ،مکتبۂ مشرق ،بریلی،ص ۱۳ سے ۱۷ تک مولانا حسرتؔ موہانی کا یہ مضمون درج ہے)۔
اس مسلمہ حقیقت سے قطعاً انکار ممکن نہیں کہ محبت واُلفتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم خانوادۂ رضا کا طرۂ امتیاز ہے۔حدائقِ بخشش(از:امام احمد رضا بریلوی)اور ’’ذوقِ نعت‘‘کے مطالعہ سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دونوں بھائیوں کو محبت واُلفتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گھٹی میں گھول کر پلائی گئی ہے۔’’حدائقِ بخشش‘‘ محبت واُلفتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاایک ایسا میخانہ ہے جہاں کی پاکیزہ شراب سے آج ساری دنیا کے خوش عقیدہ مسلمان سیراب ہورہے ہیں۔اسی طرح ’’ذوقِ نعت‘‘ بھی محبت واُلفتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حسیٖن مجموعہ ہے جس کا ورق ورق محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تابندہ و فروزاں اور سطر سطر میں تعظیم و ادبِ رسالت کی جلوہ گری ہے ؂
نام تیرا ، ذکر تیرا تو ترا پیارا خیال
ناتوانوں بے سہاروں کا سہارا ہوگیا
یہ پیاری ادائیں ، یہ نیچی نگاہیں
فدا جانِ عالم ہے اے جانِ عالم
یہ کس کے روے نکو کے جلوے زمانے کو کررہے ہیں روشن
یہ کس کے گیسوے مشک بو سے مشامِ عالم مہک رہا ہے
رہے دل کسی کی محبت میں ہر دم
رہے دل میں ہر دم محبت کسی کی
تیری عظمت وہ ہے کہ تیرا
اللہ کرے وقار آقا
علامہ حسن رضا بریلوی کا روئے سخن نعت گوئی سے قبل غزل گوئی کی طرف تھا۔مگر جب آپ نے اپنے برادرِ اکبر امام احمد رضا بریلوی کے نعتیہ کلام کا مطالعہ کیا تو طبیعت میں انقلاب برپا ہوگیا،دل میں عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دبی ہوئی چنگاری شعلۂ جوالہ بن کر اُبھر گئی اور آپ نعتیہ شاعری کے میدان کے ایک ایسے عظیم ترین شہسوار بن گئے کہ جلد ہی ’’اُستاذِ زمن‘‘ کے لقب سے دنیاے شعر وادب میں پہچانے جانے لگے۔امام احمد رضا بریلوی کی اس نظرِ عنایت کا انھیں بھی اعتراف ہے ۔’’ذوقِ نعت‘‘ میں ایک مقام پر اپنے برادرِ معظّم کے حق میں یوں دعا کی ہے ؂
بھلا ہے حسنؔ کا جنابِ رضاؔ سے
بھلا ہو الٰہی جنابِ رضاؔ کا
میرے خیال میں’’ حدائقِ بخشش‘‘ کے اشعارِ آبدار کے معنی ومفہوم کے فہم میں ’’ذوقِ نعت‘‘ کا مطالعہ نا گزیر ہے ۔حدائقِ بخشش جہاں فکر و تخیل کا ایک بحرِ بیکراں اور معنی آفرینی میں اپنی مثال آپ ہے وہیں ذوقِ نعت اس بحرِ بیکراں کی غواصی کے ذریعہ حاصل کردہ صدف سے نکالے گئے قیمتی موتیوں سے پرویا ہوا خوشنما ہار ہے اور اس کے اشعار فکرِ رضا کے سہل انداز میں شارح و ترجمان ہیں ؂
قرآن کھارہا ہے اسی خاک کی قسم
ہم کون ہیں خدا کو ہے تیری گلی عزیز
کس کے دامن میں چھپے کس کے قدم پر لوٹے
تیرا سگ جائے کہاں چھوڑ کے ٹکڑا تیرا
ذات بھی تیری انتخاب ہوئی
نام بھی مصطفی ہوا تیرا
قمر اک اشارے میں دو ٹکڑے دیکھا
زمانہ پہ روشن ہیں طاقت کسی کی
وہی سب کے مالک انھیں کا ہے سب کچھ
نہ عاصی کسی کے نہ جنت کسی کی
علامہ حسن رضا بریلوی کا نعتیہ کلام شاعری کی بہت ساری خوبیوں اور خصوصیات سے سجا سنورا اور تمام تر فنّی محاسن سے مزین اور آراستہ ہے موضوعات کا تنوع،فکر کی ہمہ گیری،محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ جذبات کی فراوانی کے اثرات جابجا ملتے ہیں۔آپ کے کلام میں اندازِبیان کی ندرت بھی ہے اور فکر و تخیل کی بلندی بھی،معنی آفرینی بھی ہے، تصوّفانہ آہنگ بھی،استعارہ سازی بھی ہے، پیکر تراشی بھی ،طرزِ ادا کا بانکپن بھی ہے، جدت طرازی بھی ،کلاسیکیت کا عنصر بھی ہے،رنگِ تغزل کی آمیزش بھی ،ایجاز و اختصاراور ترکیب سازی بھی ہے،عربی اور فارسی کا گہرا رچاؤ بھی ؂
لبِ جاں بخش کی تعریف اگر ہو تجھ میں
ہو مجھے تارِ نفَس ہر خطِ مسطر کاغذ
کریں تعظیم میری سنگِ اسود کی طرح مومن
تمہارے در پہ رہ جاوں جو سنگِ آستاں ہوکر
آستانہ پہ ترے سر ہو اجل آئی ہو
اور اے جانِ جہاں تو بھی تماشائی ہو
اونچی ہوکر نظر آتی ہے ہر اک شَے چھوٹی
جاکے خورشید بنا چرخ پہ ذرّہ تیرا
شاعری میں ایجاز واختصار کلام کی ایک بڑی اور اہم خوبی ہے۔اس میں علامہ حسن رضا بریلوی کو کافی ملکہ حاصل تھا ۔مشکل اور طویل مضامین کو سہل انداز میں ایک ہی شعر میں کہہ کر گزر جانا آپ کے مسلم الثبوت شاعر ہونے کی واضح اور روشن دلیل ہے ؛مثالیں خاطر نشین ہوں ؂
گناہ گار پہ جب لطف آپ کا ہوگا
کِیا بغیر کِیا بے کِیا ہوگا
کیا بات تمہارے نقشِ پا کی
ہے تاج سرِ وقار آقا
بت خانوں میں وہ قہر کا کہرام پڑا ہے
مل مل کے گلے روتے ہیں کفار و صنم آج
گر وقتِ اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو
جتنی ہو قضا ایک ہی سجدے میں ادا ہو
اسی طرح کم سے کم لفظوں میں مفہوم کی ادائیگی اور شعر میں بلاغت بھرنے کے لیے ترکیب سازی کی بڑی اہمیت ہے۔شاعری میں محبوب یا ممدوح کے اوصافِ بلیغ کے اظہار میں تراکیب اہم رول ادا کرتی ہیں۔علامہ حسن رضا بریلوی کے نعتیہ کلام میں جہاں تمام ادبی و فنّی محاسن موجود ہیں وہیں ترکیب سازی کے بہت ہی دل کش اور نادر نمونے ملتے ہیں ؂
اس مہک پر شمیم بیز سلام
اس چمک پر فروغ بار دُرود
زخم دل پھول بنے آہ کی چلتی ہے نسیٖم
روز افزوں ہے بہارِ چمنستانِ قفس
اے نظمِ رسالت کے چمکتے ہوئے مقطع
تو نے ہی اسے مطلعِ انوار بنایا
زمیں کے پھول گریباں دریدہ غمِ عشق
فلک پہ بدر ، دل افگارِ تابِ حسنِ ملیح
صبیح ہوں کہ صباحتِ جمیل ہوں کہ جمال
غرض سبھی ہیں نمک خوارِ بابِ حسنِ ملیح
اگر دودِ چراغِ بزمِ شہ چھو جائے کاجل کو
شبِ قدرِ تجلی کا ہو سرمہ چشمِ خوباں میں
علامہ حسنؔ رضا بریلوی کے کلام کی خصوصیات پر اگر قلم کو جنبش دی جائے تواس متنوع خوبیوں اور محاسن سے لبریز کلام کا احاطہ اس مختصر سے مقالے میں ناممکن ہے۔کیوں کی آپ کی شعری کائنات کے کما حقہٗ تعارف کے لیے ایک عظیم دفتر درکار ہے۔اسی لیے اختصار سے کام لیتے ہوئے صرف اجمالی جائزہ پیش کیاجارہا ہے۔
مالکِ کون ومکاں باعثِ کن فکاں صلی اللہ علیہ وسلم کو خالقِ مطلق جل شانہٗ نے مجبور و بے کس نہیں بل کہ مالِک ومختار بناکر اس خا ک دانِ گیتی پر مبعوث فرمایاہے۔آقا و مولا صاحبِ اختیار ہیں اور آپ کے کمالات ارفع و اعلا ہیں ،اس طرح کے اظہار سے ’’ذوقِ نعت ‘‘ کے اوراق مزین و آراستہ ہیں ؂
ملا جو کچھ جسے وہ تم سے پایا
تمہیں ہو مالکِ مِلکِ خدا خاص
وہی سب کے مالک انھیں کا ہے سب کچھ
نہ عاصی کسی کے نہ جنت کسی کی
کنجی تمہیں دی اپنے خزانوں کی خدا نے
محبوب کیا مالک و مختار بنایا
کیوں نہ ہو تم مالکِ مِلکِ خدا مُلکِ خدا
سب تمہارا ہے ، خدا ہی جب تمہارا ہوگیا
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم افضل الانبیا و المرسلین ہیں ۔آپ کے اوصاف و کمالات ،شمائل و فضائل اس قدر ارفع و اعلا،افضل و بالا ہیں کہ اس میں دوسرے انبیا آپ کے شریک نہیں اور خداوندِ قدوس سے آپ کو سب سے زیادہ قربت حاصل ہے ؂
شریک اس میں نہیں کوئی پیمبر
خدا سے ہے جو تجھ کو واسطہ خاص
تمام بندگانِ خدا ہر ہر کام میں اپنے خالق و مالک جل شانہٗ کی مرضی و مشیت کے طلب گار ہیں۔مگر سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جومرضی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی بھی خوش نودی و رضا ہے۔نقاشِ ازل جل شانہٗ نے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تابندہ پیشانی پر یہ بات بہ خطِّ قدرت ازل ہی میں تحریر فرمادی تھی ؂
قدرت نے ازل میں یہ لکھا ان کی جبیں پر
جو ان کی رضا ہو وہی خالق کی رضا ہو
ایک عاشق کی یہ سب سے بڑی آرزو اور خواہش ہوتی ہے کہ اسے محبوبِ رعنا ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے روئے منور کی زیارت نصیب ہوجائے ۔علامہ حسنؔ رضا بریلوی جامِ روے جاناں کی تشنگی رکھتے ہیں اور آپ کی یہ تشنگی اتنی فزوں تر ہے کہ اگر نزع کے وقت حورانِ خلد آکر آپ کے آگے جام پر جام لنڈھائیں بھی تو آپ ان کی طرف نگہِ التفات کرنے کی بجاے اپنا رُ خ دوسری جانب پھیر لیں گے ؂
دے اس کودمِ نزع اگر حور بھی ساغر
منھ پھیر لے جو تشنۂ دیدار ترا ہو
عاشق چاہتا ہے کہ سرورِ انس و جاں صلی اللہ علیہ وسلم کے جلووں سے دل منور و مجلا ہوجائے اور ہمہ وقت اس میں مدینے کی یاد رچی بسی رہے ؂
رہیں ان کے جلوے بسیں ان کے جلوے 
مرا دل بنے یادگارِ مدینہ 
لالہ و گل کی نکہتوں اور گلستانوں کے رنگ و بہار پر صحرائے مدینہ کو اس طرح فوقیت دی جارہی ہے ؂
رنگِ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند 
صحراے طیبہ ہے دلِ بلبل کو تُو پسند
علامہ حسنؔ رضا بریلوی آقا ومولا صلی اللہ علیہ وسلم کے شہرِ پاک کی خواہش و تمنا کا اظہار کرتے ہوئے بارگاہِ ربِ ذوالجلال میں یوں دعا گو ہیں ؂
مرادِ دلِ بلبلِ بے نوا دے
خدایا دکھادے بہارِ مدینہ
صحرائے مدینہ کے حصول کے بعد جنت اور بہارِ گلشن کی حیثیت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے ان کو صحراے مدینہ کے آگے یوں ہیچ بتایا ہے ؂
خلد کیسا کیا چمن کس کا وطن 
ہم کو صحرائے مدینہ مل گیا
جب زاہد عاشق کو جنت کے باغوں کا پھول دے کر اسے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ جنت کے لالہ و گل کو محبوبِ دل نواز ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے شہرِ رعنا کے خوش نما کانٹوں کے آگے بے وقعت سمجھتے ہوئے زاہد کو اس طرح خطاب کرتا ہے کہ ؂
گلِ خلد لے کے زاہد تمہیں خارِ طیبہ دے دوں 
مرے پھول مجھ کو دیجے بڑے ہوشیار آئے
علامہ حسنؔ رضا بریلوی کو مدحتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی تڑپ اور لگن ہے کہ اس دنیا سے جاتے وقت بھی وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی زبان پر ترانۂ نعت جاری رہے ؂
خدا سے دعا ہے کہ ہنگامِ رخصت
زبانِ حسنؔ پر ہو مدحت کسی کی
موت کے بعد مدینۂ طیبہ کا غبار بننے اور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس کوچہ میں دفن ہونے کی ایمانی خواہش کا یوں اظہار کرتے ہیں ؂
مری خاک یارب نہ برباد جائے 
پسِ مرگ کردے غبارِ مدینہ
مٹی نہ ہو برباد پسِ مرگ الٰہی 
جب خاک اڑے میری مدینے کی ہوا ہو
زمیں تھوڑی سی دیدے بہرِ مدفن اپنے کوچے میں
لگادے میرے پیارے میری مٹی بھی ٹھکانے سے
عاشق کی نظر میں روزِ محشر کا انعقاد صرف اسی لیے ہوگا کہ اس دن محبوبِ خدا( صلی اللہ علیہ وسلم )کی شانِ محبوبی دکھائی جائے گی کیوں کہ آپ اس روز عصیاں شعاروں اور گناہ گاروں کی شفاعت فرمائیں گے ؂
فقط اتنا سبب ہے انعقادِ بزمِ محشر کا
کہ ان کی شانِ محبوبی دکھائی جانے والی 
عاشق کہتا ہے کہ مجھے میدانِ محشر میں کوئی خوف نہیں ہوگا کیوں کہ یہ آقا و مولا میرا شفیع ہے ؂
خدا شاہد کہ روزِ حشر کا کھٹکا نہیں رہتا
مجھے جب یاد آتا ہے کہ میرا کون والی ہے
جب کہ اس کے برعکس منکرینِ شفاعت اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ ایک ایک کا منھ تکتے اِدھر اُدھر بھٹکتے رہیں گے ؂ 
حشر میں اک ایک کا منھ تکتے پھرتے ہیں عدوٗ
آفتوں میں پھنس گئے تیرا سہارا چھوڑ کر
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی محافل میں پڑھے جانے والے بہت سارے میلاد نامے’’ذوقِ نعت‘‘ ہی کے ہیں وہ تمام کے تمام شعری کمال کے اعلا نمونے ہیں۔چند اشعار خاطر نشین ہوں ؂
فلک پہ عرش بریں کا گمان ہوتا ہے
زمینِ خلد کی کیاری ہے بارہویں تاریخ
جھکالائے نہ کیوں تاروں کو شوقِ جلوۂ عارض
کہ وہ ماہِ دل آرا اَب زمیں پر آنیوالاہے
وہ مہر مِہر فرما وہ ماہِ عالم آرا
تاروں کی چھاوں آیا صبحِ شبِ ولادت
خوشبو نے عنادل سے چھڑائے چمن و گل
جلوے نے پتنگوں کو شبستاں سے نکالا
علامہ حسنؔ رضا بریلوی کایہ کمالِ شاعری ہے کہ آپ ایک لفظ کو ایک معنی پر ایک شعر میں اس پُرکاری اور ہنر مندی سے استعمال کرتے ہیں کہ تکرار کا نقص نہیں بل کہ تخیل کا حسن پیدا ہوجاتا ہے مثلاً ؂
ہمیں ہیں کسی کی شفاعت کی خاطر
ہماری ہی خاطر شفاعت کسی کی
رہے دل کسی کی محبت میں ہر دم
رہے دل میں ہر دم محبت کسی کی
نکالا کب کسی کو بزمِ فیضِ عام سے تم نے
نکالی ہے تو آنیوالوں کی حسرت نکالی ہے
علامہ حسنؔ رضا بریلوی کی نعتیہ شاعری میں کلاسیکیت اور تغزل کارنگ حد درجہ غالب ہے۔نعت کے اعلا ترین تقدس اور غزل کی رنگینیِ بیان دونوں کو یک جا کرکے سلامت روی کے ساتھ گذر جاناعلامہ حسنؔ رضا بریلوی کی قادرالکلامی کی بیّن دلیل ہے۔ذیل میں برنگِ تغزل آپ کے چیدہ چیدہ اشعار خاطر نشین فرمائیں ؂
مرے دل کو دردِ الفت ، وہ سکون دے الٰہی
مری بے قراریوں کو نہ کبھی قرار آئے
کرے چارہ سازی زیارت کسی کی 
بھرے زخم دل کے ملاحت کسی 
روشن ہے ان کے جلوۂ رنگیں کی تابشیں
بلبل ہیں جمع ایک چمن میں ہزار صبح
ہوا بدلی گھرے بادل کھلیں گل بلبلیں چہکیں
تم آئے یا بہارِ بے خزاں آئی گلستاں میں
کیا مزے کی زندگی ہے زندگی عشاق کی 
آنکھیں ان کی جستجو میں دل میں ارمانِ جمال
زینتوں سے ہے حسینانِ جہاں کی زینت
زینتیں پاتی ہیں جلوے تری زیبائی کے
جمال والوں میں ہے شورِ عشق اور ابھی
ہزار پردوں میں ہے آب و تابِ حسنِ ملیح
اپنا ہے وہ عزیز جسے تو عزیز ہے
ہم کو تو وہ پسند جسے آئے تو پسند
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو
بے چین رکھے مجھ کو ترا دردِ محبت
مٹ جائے وہ دل پھر جسے ارمانِ دوا ہو
تمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے
پڑے ہوئے تو زرِ رہِ گذار ہم بھی ہیں
’’ذوقِ نعت‘‘ میں نعتیہ کلام کے علاوہ قابلِ لحاظ حصہ مناقب پر بھی مشتمل ہے ۔حضرت ابوبکر صدیق ،حضرت عمر فاروق،حضرت عثمان غنی،حضرت علی مرتضیٰ ،حضرت امام حسین وشہدائے کربلارضی اللہ عنہم حضرت غوثِ اعظم،حضرت خواجہ غریب نواز،حضرت شاہ اچھے میاں و شاہ بدیع الدین مدار قدست اسرارہم کی شانِ اقدس میں منقبتیں جہاں ایک طرف شعری و فنی کمال کا نمونہ ہیں وہیں علامہ حسنؔ رضا بریلوی کی اپنے ممدوحین سے بے پناہ عقیدت و محبت کا مظہرِ جمیل بھی۔
علاوہ ازیں ’’ذوقِ نعت‘‘ میں شامل ایک نظم بہ عنوان’’کشفِ رازِ نجدیت‘‘لطیف طنز و ظرافت کا بے مثال فنی نمونہ ہے،اسی طرح اس دیوان میں مسدّس منظومات ،نعتیہ رباعیات اور سلامیہ قصائد بھی موجود ہیں۔جہانِ لوح وقلم اور دنیاے سنیت میں استاذِ زمن علامہ حسن رضا خاں حسن ؔ بریلوی کے نام چند صفحات تحریرکرکے آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں ان کی وسیع ترشعری کائنات کے تعارف کاحق ادا کررہاہوں ،بل کہ خدائے لم یزل کی طرف سے ملنے والی اس رحمتِ بے پایاں اور ثوابِ عظیم میں خود کو شریک کررہاہوں جواُلفتِ مصطفی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم میں ڈوبے ہوئے’’ذوقِ نعت‘‘ کے اشعارِ آب دار کو پڑھ کر گناہ گاروں کی قسمت میں ارزاں کردیا جاتا ہے۔
 (ماہ نامہ کنزالایمان ،دہلی جلد نمبر ۳،شمارہ نمبر ۱۱ ،ستمبر ۲۰۰۱ء/جمادی الثانی ۱۴۲۲ھ،صفحہ۳۸/۴۲)








ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.