Mushahid Razvi



رد قادیانیت میں اولین ماہ وار رسالہ
قہر الدّیان علیٰ مرتدِِ بقادیان(بریلی)
۱۳۲۳ھ/۱۹۰۵ء
                                                                                                                        محمد ثاقب رضا قادری، ایم اے (علوم اسلامیہ)
                                                                                                                        پنجاب یونیورسٹی، مرکزالاولیاء لاہور-پاکستان
           
            اُنیسویں صدی عیسوی کے اخیر میں ظاہرہونے والے فتنۂ قادیانیت کے رد میں علماے اہل سنت نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا اور قریہ قریہ اس فتنہ کا مقابلہ کرتے ہوئے اس کی پھیلائی گئی گم راہی کا تدارک کیا۔ تقریر کے ساتھ ساتھ تحریری میدان میں بھی علماے اہل سنت ہی سر فہرست نظر آتے ہیں چنانچہ سب سے اول امام اہل سنت مفتی غلام دستگیر قصوری نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے مرزا قادیانی کے خلاف جامع او رمبسوط فتوی مرتب کیا اور علماے حرمین شریفین کے تصدیقی دستخظوں سے اس کو مزین کروا کر شائع کیا۔ یہی نہیں بلکہ صحافتی میدان میںبھی رد قادیانیت کے لیے پہلا باضابطہ ماہوار رسالہ جاری کرنے کا اعزاز اہل سنت کے سر ہے۔ گو کہ صحافتی میدان میں اہل سنت کے کئی ایک،  ہفت روزہ اور ماہ وار رسائل و اخبارمثلاً دبدبۂ سکندری(رام پور)، تحفۂ حنفیہ(پٹنہ) وغیرہ جاری تھے اور ان میں قادیانیت کا رد و ابطال بحسن و خوبی کیا جاتا تھا مگر پھر بھی ایک خاص رسالہ قادیانیت کے رد کے لیے جاری کرنے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جارہی تھی چنانچہ برادر اعلیٰ حضرت شہنشاہ سخن استاذ زمن مولانا حسن رضا خان حسن قادری رضوی برکاتی فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے رجب ۱۳۲۳ھ بمطابق یکم ستمبر ۱۹۰۵ء بروز جمعۃ المبارک بریلی شریف سے اس ماہ وار رسالہ کا اجرا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام مطبع اہل سنت و جماعت سے کیا۔ رسالہ کا تاریخی نام ’’قہرالدیان علی مرتد بقادیان‘‘ رکھا گیا۔
             اس رسالہ کا خاص مقصد رد ّقادیانیت تھا چنانچہ مولانا رسالہ کے قواعد وضوابط میں تحریر فرماتے ہیں  :
            ’’اس رسالہ کا مقصد صرف مرزا و مرزائیاں کا رد اور ان کے ان ناجائز حملوں کا دفع ہو گا جو انہوں نے عقائد اسلام و انبیاے کرام خصوصاً سیدنا عیسیٰ و حضرت مریم و خود حضور سیدالانام ﷺ حتی کہ رب العزۃ ذوالجلال والاکرام پر کیے ہیں۔ دوسرے فرقوں کا رد اس کا موضوع نہیں۔اس کے لیے بعونہ تعالیٰ مبارک رسالہ ’تحفہ حنفیہ‘عظیم آباد نیز اہل سنت کی اور کتب کافی ووافی ہیں۔(قہرالدیان علی مرتد بقادیان،جلد۱،ص:۱۸)
            اس رسالہ کے اجرا میں مولاناکو کثیر احباب کا تعاون حاصل تھا ،ان میں سے ۸۵ معاونین کی فہرست اس رسالہ کے اندرون سرورق پر شائع ہوئی۔ اس رسالہ کی مدت اشاعت معلوم نہ ہو سکی تاہم مولانا حسن رضا اس رسالہ کے اجراء کے بعد تقریباً تین سال تک حیات رہے ۔
             مولانا حسن رضا خان کی زیر ادارت یہ رسالہ ستمبر ۱۹۰۵ء میں جاری ہوا جبکہ اس سے قبل۲۶ ذی قعدہ۱۳۲۰ھ /۲۴ فروری۱۹۰۳ء میںحجۃالاسلام مولانا حامد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ہر ماہ ایک رسالہ رد قادیانیت میں اپنے اہتمام سے شائع کرنے کااعلان کیا، چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:
            ’’ایک ماہ واری رسالہ بعونہ تعالیٰ شائع کروں جسے دیکھنا، چھاپنا سب آسان ہو اور اس کی امداد کے لیے وہ خفیف رقم مقرر کروں کہ کسی پر گراں نہ ہو یعنی فقط ایک روپیہ سال۔ ڈاک کے ٹکٹ بھی اپنے پاس سے لگائے جائیںگے ، مقصود اپنا اور اپنے بھائی مسلمانوں کا دینی نفع ہے، مسلمان ہر گز اسے قیمت رسالہ گمان نہ کریں کوئی رسالہ ایک روپے سال کو نہ سنا ہو گا بلکہ محض امداد رسالہ و اعانت طبع کی نیت سے کم از کم یہ خفیف مال ایک روپیہ سال پیشگی عنایت کریں جسے زیادہ کی ہمت ہو وہ جانے اور ان کی توفیق، یہاں سے رسالہ بعونہ تعالیٰ محض لوجہ اللہ ہدیہ ہوا کرے۔
            پھر گزارش کرتا ہوں کہ یہ پیشگی قیمت بھیجنے میں شرعی اندیشے ہیں، طرفین سے محض امداد کی نیت ہو۔کم سے کم دو سو(۲۰۰) درخواستیں آنے پر رسالہ جاری کر دیا جائے گا، اس سے کم میں مطبع کا خرچ بھی ادا نہ ہو گا۔‘‘ (السوء والعقاب علی المسیح الکذاب:۲۔۱ مطبوعہ مطبع اہل سنت و جماعت ، بریلی)
             وہابی حضرات کی طرف سے خاص رد قادیانیت کے لیے ماہ وار رسالہ ’’مرقع قادیانی‘‘ کا اجراء جون ۱۹۰۷ء میںہوا۔ ہمیں مرقع قادیانی کا کوئی شمارہ تونہ مل سکا ، تاہم اہل سنت کے جلیل القدر اخبار اہل فقہ، امرت سرکے شمارہ بابت ۲۱جون ۱۹۰۷ء میں مرقع قادیانی کے متعلق ایک ریویو ہمارے پیش نظر ہے جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں، چنانچہ مولانا غلام احمد اخگر امرت سری نقشبندی (مدیر اخبار اہل فقہ، امرت سر) لکھتے ہیں:
            ’’اگرچہ کادیانی مشن کی مزاج پُرسی اہل اسلام کی طرف سے بذریعہ رسائل و اخبارات برابر ہو رہی تھی لیکن درحقیقت اس امر کی سخت ضرورت تھی کہ کوئی مستقل اخبار یا رسالہ مرزا کی تردید اور اس کے فریبوں کو طشت ازبام کرنے کے لیے مخصوص ہو-اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دفتر اخبار اہل حدیث، امرت سر سے ایک ماہ وار رسالہ ’’مرقع قادیانی‘‘ جاری ہوا ہے جس کا پہلا پرچہ بابت ماہ جون ہمارے سامنے ہے اس میں علاوہ اور چھوٹے چھوٹے نوٹوں کے ڈاکٹر ڈوئی کے متعلق ایک بسیط مضمون ہے جس میں مرزا اور مرزائیوں کی تحریرات سے ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا کادیانی نے ڈاکٹر ڈوئی کے متعلق اس کی زندگی میں تو کوئی پیش گوئی ایسی نہیں کی جس سے ثابت ہو کہ وہ مرزا کی زندگی میں مر جائے گا لیکن اب جھوٹ لکھ رہے ہیں کہ پیش گوئی کی تھی۔
            ڈاک خانہ کے قواعد کے رُو سے ضروری ہے کہ رسالہ میں خبریں بھی ہوں اس رسالہ میں خبروں کے ضمن میں بھی مرزائی اخبارات درج کیے گئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رسالہ مرزا کی بیخ کنی کے لیے مخصوص ہے۔رسالہ کی قیمت سالانہ عوام سے مع محصول ڈاک ایک ایک روپیہ ہے۔‘‘
            پس بخوبی واضح ہوا کہ خاص قادیانیت کے رد میں اولین ماہ وار رسالہ جاری کرنے کا اعزاز اُستاذ زمن مولانا حسن رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ اللہ القوی کے سر ہے۔
رسالہ قہر الدیان علی مرتد بقادیان اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی تصنیف نہیں
  بعض محققین نے اسے اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی تحریر شمار کیا ہے؛ جیسا کہ حیات اعلیٰ حضرت جلد دوم صفحہ ۳۴ پر ہے، پھر صفحہ ۱۴۲ پر رد قادیانیت کے حوالہ سے اس رسالہ کو تصانیف اعلیٰ حضرت میں شمار کیا گیا ہے۔ المجمل المعدد لتالیفات المجدد مطبوعہ مرکزی مجلس رضا، لاہور کے صفحہ ۵۷ پر اسے اعلیٰ حضرت کی تصنیف شمار کیا گیا اور اس کا نمبرشمار۲۲۴ درج ہے ۔علاوہ ازیں یہ رسالہ فتاوی رضویہ (مخرجہ) کی جلد ۱۵ اور عقیدۂ ختم نبوت کی دوسری جلد میں اعلیٰ حضرت کی تصنیف کے طور پرشامل ہے۔
ہم پیشتر بھی اپنے مضمون ’’مولانا حسن رضا کی تصنیفی خدمات‘‘ (جو کہ پاک و ہند کے کثیر رسائل میں شائع ہوا) اور رسائل حسن کے مقدمہ میں ذکر کر چکے ہیں کہ اس رسالہ کو فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی تصنیف کے طور پر شامل کرنا نادرست ہے کیونکہ یہ کسی تصنیف کا نام نہیں بلکہ ردّ قادیانیت میں مولانا حسن رضا خان کی طرف سے جاری کردہ  ماہنامہ ہے۔ چنانچہ رسالہ کے سرورق پر یہ عبارت جلی حروف میں تحریر ہے:
’’الحمدللہ! مبارک ماہواری رسالہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مخالف پر قہر الٰہی ڈھانے والا، عیسیٰ مسیح کلمۃ اللہ کے دشمن پر تیغ عذاب چمکانے والا، جھوٹے مسیح مرزا قادیانی اور اس کے الہام و وحی شیطانی کی بنیاد گرانے والا، محمدی فتح کے پھریرے اڑاتا، اسلامی شان کے نشان چمکاتا‘‘۔
            پھر رسالہ کا نام ’’قہر الدیان علی مرتد بقادیان‘‘ تحریر ہے اور اس کے دائیں بائیں لفظ’’ماہوار‘‘ تحریر ہے۔
            نیز تحریر ہے  :
            ’’زیرادارت: ماحی بدعت حامی سنت مولانا مولوی محمد حسن رضا خان سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی سلمہ‘‘
            مزید یہ کہ رسالہ کے قواعد و ضوابط میں تحریر ہے:
            ’’(۱)     یہ رسالہ باذنہٖ تعالیٰ ہرقمری مہینے میں ایک بار شائع ہو گا۔‘‘
            رسالہ کے آخرمیں تحریر ہے:
            ’’فصل دوم : علی مرتضیٰ و امام حسن و امام حسین و فاطمہ زہرا اور خود محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیہم وسلم پر قادیانی کی گالیاں- باقی آئندہ‘‘
            لہذا اس رسالہ کو اعلیٰ حضرت کی تصنیف قرار دینا درست نہیں ۔
اداریہ رسالہ قہر الدیان علی مرتد بقادیان (شمارہ اول)
            مولانا حسن رضاخان اداریہ میں رسالہ کا سبب اجراء تحریر فرماتے ہیں:
’’اللہ عزوجل اپنے دین کا ناصر، اپنے بندوں کا کفیل، وحسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل،  رسالہ ماہواری ردّ قادیانی کی اِبتدا حکمت الٰہیہ نے اس وقت پر رکھی تھی کہ یہاں دو چار جاہلانِ محض اس کے مرید ہو آئے ، مسلمانوں نے حسب حکم شرع شریف اُن سے میل جول ارتباط اسلام کلام اختلاط یک لخت ترک کر دیا۔ دین میں فساد مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے والوں نے یہ العذاب الادنی دون العذاب الکبر چکھا ۔
 مسلمانوں پر حملے میںاپنی چلتی کوئی گئی نہ کی ۔ بس نہ چلا تو متواتر عرضیاں دیں کہ ہمارا پانی بند ہے، ہم پر زندگی تلخ ہے، بیدار مغز حکومت ایسی لغویات کو کب سنتی، ہر بار جواب ملا کہ مذہبی امور میں دست اندازی نہ ہوگی۔ سائلان آپ اپنا انتظام کریں۔ آخر بحکم آنکہ ع: دست بگیرہ سر شمشیر تیز ایک بے قید پرچے روہیل کھنڈ گزٹ میں اشتہار چھاپا کہ عمائد شہر علماے طرفین سے مناظرہ کرائیں اور وہ بھی اس شرط پر کہ دونوں طرف سے وہ خود ہی منتظم رہیں تو ہمیں اطلاع دیں کہ ہم بھی اپنے مرزائی ملانوں کو بلا لیں اور اس میں علماے اہل سنت کی شان میں کوئی دقیقہ بد زبانی و اکاذیب بہتانی و کلمات شیطانی کا اٹھا نہ رکھا۔ یہ حرکت نہ فقط ان بے علم ، بے فہم مرزائیوں بلکہ بعونہٖ تعالیٰ خود مرزا کے حق میںکالباعث عن حتفہ بظلفہ سے کم نہ تھی۔
۔ سست بازو بجہل میفگند                  پنجہ بامرد آہنیں چنگال*
مگر از انجا کہ عَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَھُوَ خَیْرٌلَّکُمْ
ع :   خدا شرے براتگیزد کہ خیرماوران باشد
یہ ایک غیبی تحریک خیر ہو گئی جس نے اس ارادۂ رسالہ کی سلسلہ جنبانی فرما دی۔ اشتہار کا جواب اشتہاروں میں دیا گیا۔ مناظرہ کے لیے ابکار انکارمرزا قادیانی کو پیغام دیا۔ اس کے ہولناک اقوال ادعاے رسالت و نبوت وافضلیت من الانبیاوغیرہا کفر و ضلال کا خاکہ اڑایا۔ گالیوں کے جواب میں گالی سے قطعی احتراز کیا۔ صرف اتنا دکھایا کہ تمہاری گالی آج کی نرالی نہیں، قادیانی تو ہمیشہ سے اللہ ورسول و انبیاے سابقین و ائمۂ دین سب کو گالیاں سناتا رہا ہے۔ ہر عبارت اس کی کتابوں سے بحوالہ صفحہ مذکور ہوئی ۔
مضمون کثیر تھا، متعدد پرچوں میں اشاعت منظور ہوئی۔ ’ہدایت نوری بجواب اطلاعِ ضروری‘ نام رکھا گیا۔ اس میں دعوتِ مناظرہ، شرائط مناظرہ، طریق مناظرہ، مبادیِ مناظرہ سب کچھ موجود ہے۔ اس مختصر تحریر نے اپنی سلک منیر میں متعدد سلاسل لیے سلسلۂ دشنامہاے قادیانی بر حضرت ربانی و ر سولانِ رحمانی ومحبوبانِ یزدانی،سلسلۂ کفریات و ضلالاتِ قادیانی، سلسلۂ تناقضات و تہافتات قادیانی، سلسلۂ دجالی و تلبیساتِ قادیانی، سلسلۂ جہالات و بطالات قادیانی، سلسلۂ تاصیلاتِ سلسلۂ سوالات اور واقعی وقتی ضرورات مختلف مضامین پر کلام کی مقتضی ہوتی ہیں۔ اور اس کے اکثر رسائل الٹ پھر کر انہیں ڈھاک کے تین پات کے حامل؛ لہٰذا ہر رسالے کے جداگانہ رد سے انہیں سلاسل کا انتظام احسن و اولیٰ ، اب بعونہ تعالی اسی ہدایت نوری سے ابتداے رسالہ ہے اور مولیٰ تعالیٰ مدد فرمانے والا ہے۔
اس کے بعد وقتا فوقتا رسائل و مضامین حسب حاجت اندراج گزیں مناسب کہ جو کلام جس سلسلے کے متعلق آتا جائے بہ شمار سلسلہ اسی کی سلک میں انسلاک پائے، جو نیا کلام ان سلاسل سے جدا شروع ہو اس کے لیے تازہ سلسلہ موضوع ہو۔ اعتراضات کے تازیانے جن کا شمار خدا جانے اول تا آخر ایک سلسلے میں منضود اور ہر اعتراض حاشیہ پر تازیانہ یا اس کی علامت ،ت، لکھ کر جدا معدود مسلمانوں سے تو بفضلہ تعالیٰ یقینی امید مدد و موافقت ہے۔
            مرزائی بھی اگر تعصب چھوڑ کر خوفِ خدا و روزِ جزا سامنے رکھ کر دیکھیں تو بعونہٖ تعالیٰ امید ہدایت ہے۔ ‘‘
قواعد و ضوابط رسالہ قہر الدیان
            صفحہ نمبر۱۸پر رسالہ کے قواعد وضوابط تحریر ہیں جو کہ یہاں نقل کیے جاتے ہیں:
            (۱)                  یہ رسالہ باذنہٖ تعالیٰ ہرقمری مہینے میں ایک بار شائع ہو گا۔
            (۲)       اس کی امداد کے لیے صرف ایک روپیہ سالانہ پیشگی عام اشخاص سے مطلوب ہے۔ محصولی ڈاک بھی اپنے ہی پاس سے دیا جائے گا، اور دو روپے سال سے اعانت فرمانے والے ’’معاون رسالہ‘‘ پانچ روپے سالانہ عطا فرمانے والے ’’معاون کبیر‘‘ دس روپے سال سے کرم فرمانے والے حضرات ’’معاون اکبر‘‘ لکھے جائیں گے۔
            (۳)        جو صاحب دس حضرات سے سالانہ اِمداد کی رقم پیشگی بھجوائیں گے وہ خود بلا امداد مالی سال بھر تک رسالہ پائیں گے اور جتنی برس وہ زر امداد آتا رہے گا انہیں بلاشرط امداد ذاتی رسالہ پہنچا کرے گا۔
            (۴)        فی الحال حجم رسالہ اوراقِ حول کے علاوہ ۱۶صفحہ رکھا گیا ہے۔ آئندہ اگر برادرانِ دینی دو چند حجم کر دینے کی خواہش فرمائیں گے ہر قسم امداد میں صرف ایک روپیہ سالانہ کااضافہ ہو گا۔
            (۵)        اس رسالہ کا مقصد صرف مرزا و مرزائیان کا رد اور ان کے ان ناجائز حملوں کا دفاع ہو گا، جو انہوں نے عقائد اسلام و انبیاے کرام خصوصاً سیدنا عیسیٰ و حضرت مریم و خود حضور سیدالانام علیہ و علیہم الصلوٰۃ والسلام حتی کہ رب العزۃ ذولجلال والاکرام پر کیے ہیں۔ دوسرے فرقوں کا رد اس کا موضوع نہیں۔ اس کے لیے بعونہٖ تعالیٰ مبارک رسالہ تحفہ حنفیہ عظیم آباد نیز اہل سنت کی اور کتب کافی و وافی ہیں۔
            (۶)         یہ رسالہ کہ بطور بیع و شرا شائع ہی نہ ہوا بلکہ اپنے بھائیوں سے محض بہ قصد نصرتِ دین ،امدادِ رسالہ و اعانت طبع کے لیے وہ رقوم مطلوب ہیں ،اور رسالہ بھی اسی نیت اور دین کی حمایت کے لیے انہیں نذر ہے۔ جن صاحبوں کے پاس بلا طلب جائے اوّل پرچہ پر انہیں اطلاع فرما دینی چاہیے کہ امداد منظور ہے یا نہیں، بحالت سکوت قبول امداد متصور ہو گا ۔
            (۷)        اس کا آغاز سال رجب ۱۳۲۳ھ سے ہوا  جو حضرات وسط سال میں شرکائے امداد و اعانت ہوں گے؛ حتی الامکان شروع سال سے پرچے ان کی خدمت میں حاضر کیے جائیں گے کہ کلام اپنے سلسلے سے انہیں پہنچے۔
            (۸)        اہل علم جو مضمون عطا فرمائیں گے بحال معمولی امداد رسالہ ضرور ان کے نام سے درج ہو گا اور بلا امداد اندراج کا اختیار رہے گا؛ مگر بہرحال لازم ہو گا کہ مضمون حدود مقصود رسالہ کے اندر اور مخالفت مذہب و شرع سے باہر ہو، یا ہم اجازت دی جائے کہ جو لفظ یا مضمون ہم ایسا پائیں حذف یا تبدیل کر دیں مضمون صاف لکھا ہوا مع نام و نشان صاحب مضمون ہونا ضرور ہے۔
            (۹)         مضمونِ طویل متفرق پرچوں میں پورا ہو گا۔ اگر کوئی صاحب دفعۃً اس کی اشاعت چاہیں تو رسالے کے معمولی حجم سے جس قدر بڑھے گا اس کی اجرت بحساب فی جزعطا کرنی ہوگی اور جتنا بشرط گنجائش حجم معمولی کے ضمن میں آ سکے گا اس کی کچھ اجرت نہیں۔ جس مہینے میں کوئی مضمون آئے اگر اس کے پرچہ میں گنجائش نہ ہو پرچہ آئندہ سے اندراج پائے گا۔
            (۱۰)       خط کتابت بصیغۂ پیڈ اور جواب طلب امر کے لیے ٹکٹ یا کارڈ جوابی ہو۔
            تمام مراسلات و ارسال زر اس نشان سے ہوں  :
             بریلی روہیل کھنڈ مطبع اہل سنت و جماعت بنام فقیر مشتہر
المشتہر

محمد حسن رضا خان قادری برکاتی -کان اللہ لہ فی الحاضر والآتی-آمین
اسمائے گرامی معاونین رسالہ
            رسالہ کے اندرونی صفحہ پر معاونین کی فہرست دی گئی ہے جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں تاکہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے ان مجاہدین کی یادوں کے نقوش اذہان میں تازہ ہو جائیں:
نمبر
اسمائے امداد کنندگان
نمبر
اسمائے کنندگان
۱
جناب سیٹھ حاجی قاسم صاحب سورتی
۲
جناب منشی خادم حسین صاحب جرول
۳
جناب مولانا قاضی عبدالوحید صاحب ، پٹنہ
۴
جناب صاحب زادہ مولانا بشیرالدین خان صاحب
۵
جناب قاضی معین الدین صاحب
۶
جناب شیخ علی احمد صاحب ، مارہرہ مطہرہ
۷
جناب غلام محی الدین صاحب، شیرپور
۸
جناب منشی رشید احمد صاحب میرٹھ
۹
جناب مولوی عبدالرحمن صاحب، ضلع میمن سنگھ
۱۰
جناب غریب اللہ صاحب ، برڈڈ
۱۱
جناب منشی خلیل الدین صاحب، رام پور
۱۲
جناب عاشق یار خان صاحب، آنولہ
۱۳
جناب مولوی کریم بخش صاحب گلاوٹی
۱۴
جناب شیخ جلال الدین صاحب، ضلع بجنور
۱۵
جناب حکیم خلیل الرحمن خان صاحب، پیلی بھیت
۱۶
جناب شاہد علی خان صاحب، ضلع بدایوں
۱۷
جناب قاضی زکی الدین صاحب ، پیلی بھیت
۱۸
جناب مولوی محمد یحییٰ صاحب، رام پور
۱۹
جناب منشی توصیف حسین صاحب ، سوہارہ
۲۰
جناب منشی مختار احمد صاحب
۲۱
جناب منشی محمد عباس خان صاحب
۲۲
جناب منشی غضنفر حسین صاحب، سوہارہ
۲۳
جناب منشی عین الحق صاحب پوکھریرا
۲۴
جناب سید مہدی حسین میاں صاحب، مارہرہ مطہرہ
۲۵
جناب سید ابراہیم میاں صاحب، مارہر ہ مطہرہ
۲۶
حضرت سید برکات حسن میاں صاحب، مارہرہ مطہرہ
۲۷
حضرت خادم حسین میاں صاحب، مارہرہ مطہرہ
۲۸
جناب مولوی الطاف علی صاحب
۲۹
جناب منشی محمد اکرام علی صاحب، پرانچی
۳۰
جناب نواب عبداللہ خان صاحب، رام پور
۳۱
جناب حکیم محمد حبیب علی صاحب، اٹاوہ
۳۲
جناب مولوی حبیب حیدر صاحب کاکوری
۳۳
جناب حافظ روح اللہ خان صاحب، اٹاوہ
۳۴
جناب میر مظہر حسین صاحب، اٹاوہ
۳۵
جناب سید موسیٰ رضا خان صاحب، اٹاوہ
۳۶
جناب مولوی محمد اسحق صاحب، اٹاوہ
۳۷
جناب مولوی ذاکر علی صاحب، اٹاوہ
۳۸
جناب منشی عنایت اللہ خان صاحب، اٹاوہ
۳۹
جناب منشی محمد خان صاحب ، اٹاوہ
۴۰
جناب حکیم محمد احسن صاحب، اٹاوہ
۴۱
جناب حکیم محب علی صاحب مین پوری
۴۲
جناب فتح محمد خان صاحب، ضلع گوالیار
۴۳
جناب مولوی احمد میاں صاحب، بمبئی
۴۴
جناب شیخ ممتاز احمد صاحب، بمبئی
۴۵
جناب سیٹھ طیب صاحب، بمبئی
۴۶
جناب شیخ ۔۔۔خیراتعلی صاحب، بمبئی
۴۷
جناب سیٹھ عبدالقادر صاحب، بمبئی
۴۸
جناب سیٹھ دادا جی صاحب، بمبئی
۴۹
جناب سیٹھ منشی الہ بخش صاحب، بمبئی
۵۰
جناب حاجی محمد عثمان صاحب، بمبئی
۵۱
جناب منشی سید فقیر محمد صاحب، بمبئی
۵۲
جناب منشی محمد دین صاحب ، میرٹھ
۵۳
جناب غلام محمد صاحب، موضع برمکی
۵۴
جناب منشی جمال الدین صاحب ، ضلع لاہور
۵۵
جناب منشی رستم علی صاحب، لاہور
۵۶
جناب منشی لال شاہ صاحب، لاہور
۵۷
جناب منشی فضل الٰہی صاحب ، علاقہ چونیاں
۵۸
جناب حکیم محمد خان صاحب، علاقہ چونیاں
۵۹
جناب قاضی عبدالرزاق صاحب، علاقہ چونیاں
۶۰
جناب مولوی غلام چشتی صاحب، رام پور
۶۱
جناب مولوی عبداللطیف صاحب، پیلی بھیت
۶۲
جناب منشی عنایت علی خان صاحب، ملہر
۶۳
جناب شیخ فلاح الدین صاحب، ملہر
۶۴
جناب ہادی یار خان صاحب، ضلع مین پوری
۶۵
جناب وحید محمد صاحب، ضلع مین پوری
۶۶
جناب منشی ہدایت علی خان صاحب، ضلع مین پوری
۶۷
جناب منشی علاء الدین صاحب، ضلع مین پوری
۶۸
جناب منشی غلام رسول خان صاحب، ہوشیار پور
۶۹
جناب منشی چودھری رحمت خان صاحب
۷۰
جناب منشی چودھری مہدی خان صاحب
۷۱
جناب منشی چودھری غلام جیلانی صاحب
۷۲
جناب طاہر محمد عثمن صاحب
۷۳
جناب قاضی احمد اللہ خان صاحب، ضلع گوداوری
۷۴
جناب محمد قاسم صاحب، ضلع گوداوری
۷۵
جناب قاضی عبدالخالق صاحب، بلوچستان
۷۶
جناب الہ دیا صاحب، پیلی بھیت
۷۷
جناب منشی فضل احمد صاحب، امروہہ
۷۸
جناب مولوی عزیزالرحمن صاحب
۷۹
جناب منشی لال خان صاحب، کلکتہ


نوٹ: کل معاونین رسالہ کے اسماء ۸۵ تحریر ہیں ،نسخہ بعض مقامات سے شکستہ ہونے کے سبب چھ نام پڑھے نہ جا سکے۔
            مذکورہ بالا فہرست پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالہ قہر الدیان کا حلقۂ قارئین و معاونین ہندوستان کے دُوردراز چھوٹے بڑے علاقوں تک وسیع تھا جیسا کہ کلکتہ، لاہور، چونیاں اور بلوچستان کے ناموں سے ظاہر ہو رہا ہے۔
            آخر میں خانوادہ قادریہ عثمانیہ (بدایوں-ہند) کے ولی عہد محب گرامی شیخ اُسید الحق محمد عاصم قادری بدایونی دامت برکاتہم العالیہ کا نہایت ممنون ہوں جن کی خصوصی شفقت سے یہ رسالہ حاصل ہوا، اللہ عزوجل قبلہ شیخ صاحب کے علم و عمل و اخلاص میں برکت عطا فرمائے اور اہل سنت میں ان کی کثیر امثال پیدا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


٭٭٭٭٭

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.