Mushahid Razvi

استاذِ زمن مولانا حسن رضا بریلوی کے غزلیہ دیوان ثمرِ فصاحت سے ایک خوب صورت غزل آپ کے ذوق کی نذر،۔
انتخاب: مشاہد رضوی

اُس رُخ پہ گیسوے رَسا کچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
ہے گردِ مہ کالی گھٹاکچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
وہ ہم سے کچھ کھنچنے لگے ہم اُن سے کچھ رُکنے لگے
غماز ظالم کہہ گیاکچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
ہے کس کے آنے کی خبر چمکا ہے بختِ رَہ گزر
ہیں جمع لاکھوں مبتلا کچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
ہنگامہ حُسن و عشق کا ہم تم اگر کر دیں بپا
ہو جائے مخلوقِ خداکچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
دشمن اُڑائیں پے بہ پے ہم یوں رہیں محروم مے
اے ساقیِ رنگیں اَدا کچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
اللہ دل کو کیا ہوا یا ربّ جگر کیوں دُکھ گیا
ہے پہلوؤں میں درد سا کچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
وہ نازنیں، میں سخت جاں، تیغ و گُلو کا اِمتحاں
احباب مصروفِ دُعا کچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
دشمن نے جو اُن سے جڑی قاصدنے وہ ہم سے کہی
ہے بدگمانی کا مزہ کچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
ملتا جو آہوں کو اَثر رہتا نہ دشمن ہی کے گھر
ہوتا خیالِ دل رُباکچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
وہ آستیں اُلٹے ہوئے ہاتھوں میں تلواریں لیے
کشتے پڑے ہیں جا بجا کچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
جب ابتدا تھی عشق کی تھا دل کو میرا دھیان بھی
آتا رہا جاتا رہا کچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
سلطانِ خوباں آئے گا ہر راہ میں میلہ لگا
کاسہ لیے لاکھوں گدا کچھ اِس طرف کچھ اُس طرف
محبوبِ جانِ زار بھی پیارا حسنؔ دل دار بھی
دل آج کل ہے آپ کا کچھ اِس طرف کچھ اُس طرف

https://m.facebook.com/mushahidrazvi1979

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.