Mushahid Razvi

استاذِ زمن مولانا حسن رضا بریلوی کی ایک بہترین غزل ؎

*سوداے عشق*

آنکھیں جب پھوٹیں تو دیکھا جلوۂ زیباے عشق
کوڑیوں کے مول ہم کو مل گیا سوداے عشق

یار کا جلوہ اگر دَیر و حرم میں دیکھتا
خاک اُڑاتا جنگلوں میں کس لیے رُسواے عشق

جو ہوا بدنام اُلفت نام نیک اُس کا رہا
اُس کی عزت ہو گئی جو بن گیا رُسواے عشق

پرتوِ داغِ محبت کی تجلی دل میں ہو
شمع لیلیٰ دل ہو یا رب جلوۂ لیلاے عشق

پھر بہار آئی بڑھے جوشِ جنوں کے ولولے
پھر نئے سر سے ہوا پیدا مجھے سوداے عشق

خون ہو جائے وہ کم بخت آنکھ جو پُر نم نہ ہو
خاک ہو جائے وہ دل جس میں نہ ہو سوداے عشق

شورِ محشر کیا سنے صورِ قیامت کیا سنے
شورِ افگن جس کے کانوں میں رہے غوغاے عشق

دونوں عالم سے مجھے کھو کر ملا ہے آج تو
مرحبا صد مرحبا اے جلوۂ زیباے عشق

چاہ اُس بحرِ لطافت کی ہے دل میں موجزن
ایک کوزے میں لیے بیٹھے ہیں ہم دریاے عشق

سوزِ غم کے دل جلوں دل سوختوں کے دل کباب
بے گناہوں کا لہو ہے بادۂ میناے عشق

بزمِ محشر میں بھی پیارے بے ترے رونق نہیں
انجمن آرا ہو اب اے انجمن آراے عشق

داغِ دل مُرجھا گئے زخموں کے گل کمھلا گئے
کوئی جلوہ اِس طرف بھی اے چمن آراے عشق

بزمِ جاناں میں ہوئی ذلت تو کیا شکوہ حسنؔ
آبرو سے کچھ غرض رکھتا نہیں رُسواے عشق

🖋 از: استاذِ زمن مولانا حسن رضا بریلوی
انتخاب: مشاہد رضوی

http://www.allamahasanraza.blogspot.in

0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.